سندھ آبادگار اتحاد اور کسان اتحاد نے حکومت کو گنے کی کرشنگ شروع کرنے اور قیمت مقرر کرنے کے لیے 10 روز کی مہلت دے دی ہے۔ کسان رہنماؤں نے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی پریس کلب میں بدھ کو ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان اتحاد کے صدر خالد حسین باٹھ اور سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپر نے گنے کی قیمت 650 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔
کسان رہنماؤں نے شوگر ملز مالکان کو فوری طور پر ملیں چلانے کا پابند بنانے پر بھی زور دیا۔
گنے کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر تشویش
کسان اتحاد کے صدر خالد حسین باٹھ نے کہا کہ حکومت نے تاحال گنے کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ کرشنگ سیزن شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔ اس صورتِ حال سے آبادگاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ درآمدی گندم ناقص ہے۔ ان کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے گندم کی خریداری میں بھی کرپشن ہوئی ہے۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ بھارت میں یکم اکتوبر سے اب تک 107 شوگر ملز نے کرشنگ شروع کردی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں کرشنگ سیزن شروع نہیں ہوسکا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار سال میں ڈیزل، کھاد، زرعی ادویات اور دیگر زرعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود شوگر ملز مالکان گنے کی قیمت 400 روپے فی من مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسے کاشتکاروں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔
کرشنگ میں تاخیر سے گندم کی کاشت متاثر ہونے کا خدشہ
کسان رہنماؤں کے مطابق گنے کی کٹائی میں تاخیر سے گندم کی کاشت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کرشنگ سیزن میں تاخیر سے گنے کا وزن کم ہوگا۔ اس سے کاشتکاروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ
اس سے قبل سندھ آبادگار اتحاد اور کسان اتحاد نے کراچی پریس کلب کے باہر دو روزہ مشترکہ احتجاجی کیمپ قائم کیا۔ کسانوں کا احتجاج کیمپ میں جاری ہے۔
کسان رہنماؤں نے بتایا کہ وہ آئندہ کا لائحہ عمل کل شام پیش کریں گے۔ اس میں سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقے میں بڑے جلسے کے انعقاد سے متعلق فیصلہ بھی شامل ہوگا۔
رہنماؤں کے مطابق مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد مارچ کے بارے میں بھی اعلان کیا جائے گا۔

