سندھ ہائی کورٹ میں ایک شہری کے شناختی کارڈ نمبر پر 29 مقدمات کا ریکارڈ منسلک کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل جہانگیر شمس ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پاک کالونی پولیس نے ان کے موکل کا شناختی کارڈ نمبر ایک ہم نام ملزم کے ریکارڈ سے منسلک کردیا۔
وکیل کے مطابق پولیس نے 29 مقدمات کا ریکارڈ درخواست گزار کے شناختی کارڈ سے جوڑ دیا۔ اس غلط اندراج کے باعث درخواست گزار کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ بھی جاری ہوگئے۔
شناختی کارڈ بلاک، ایک ہفتے تک حراست
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے بعد شہری کا شناختی کارڈ بھی بلاک کردیا گیا۔
ان کے مطابق ریکارڈ میں غلط اندراج کی وجہ سے پولیس نے درخواست گزار کو ایک ہفتے تک حراست میں رکھا۔
وکیل نے مزید کہا کہ درخواست گزار نے پولیس حکام سے ریکارڈ کی درستگی کی درخواست کی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزار کا شناختی کارڈ نمبر ملزم کے ریکارڈ سے الگ کیا جائے۔
عدالت نے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا
عدالت نے درخواست گزار کے نام پر درج مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کردی۔

