Site icon Tashakur News

ریپبلکنز کو وسط مدتی انتخابات میں نقصان ہوا تو ٹرمپ ایران پر بڑا حملہ کرسکتے ہیں، رپورٹ

Donald Trump and rising tensions between the United States and Iran amid renewed diplomatic efforts

US President Donald Trump amid reports of possible military action against Iran

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑا فوجی آپریشن کرسکتے ہیں۔ یہ امکان وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد بڑھ سکتا ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے حکام کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے اس امکان کا اظہار کیا ہے۔

عہدیدار کا کہنا ہے کہ انتخابی شکست سے ٹرمپ سیاسی طور پر کمزور محسوس کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ کوئی بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس پیغام سے ایران کو ایک اور اشارہ بھی دیا جا رہا ہے۔ امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے موجودہ وقت بہترین موقع ہوسکتا ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس تاثر کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایران سے متعلق فیصلے انتخابی نتائج کی بنیاد پر نہیں کریں گے۔

قطر کی مذاکرات بحال کرانے کی کوشش

دوسری جانب قطر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایکسیوس کے مطابق قطری ثالثوں نے جمعے کو تہران میں 12 گھنٹے سے زیادہ بات چیت کی۔ اس دوران وہ وائٹ ہاؤس سے بھی مسلسل رابطے میں رہے۔

رپورٹ میں مذاکرات کے دوران مثبت پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بات چیت آگے بڑھانے کے لیے دوحہ میں مزید ملاقاتیں متوقع ہیں۔

امریکا اور ایران کے مطالبات

امریکا چاہتا ہے کہ نئے معاہدے میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہو۔

دوسری جانب تہران نے امریکا کے سامنے تین مطالبات رکھے ہیں۔

امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے۔

منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے۔

ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیاں ختم کرے۔

ٹرمپ انتظامیہ میں ایران پالیسی پر اختلافات

ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں ایران پالیسی پر اختلافات موجود ہیں۔

رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نئے معاہدے کے امکانات پر شکوک رکھتے ہیں۔

دونوں عہدیدار ایران پر مزید فوجی دباؤ کے حامی بتائے گئے ہیں۔

اس کے برعکس نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کی حمایت کر رہے ہیں۔ خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں۔

اس طرح واشنگٹن میں دو راستوں پر غور جاری ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات ہیں۔ دوسری طرف فوجی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔

قطر دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

Exit mobile version