کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی وفاقی دارالحکومت میں واقع رہائش گاہ پر مبینہ غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کی نشان دہی کرتے ہوئے نوٹس چسپاں کردیا۔
سی ڈی اے کے نوٹس میں سیکیورٹی گارڈز کے کیبن اور جنریٹر کو اتھارٹی کی اراضی پر قائم قرار دیا گیا ہے۔ اتھارٹی نے رہائش گاہ میں سیٹ بیکس پر قائم غیرقانونی تعمیرات ختم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
سی ڈی اے نے خلاف ورزیاں ختم کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دی ہے۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں تعمیرات اور تجاوزات ختم نہ کرنے پر عمارت سیل یا غیرقانونی تعمیرات مسمار کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
عمارت کے مالک کو نوٹس جاری
سی ڈی اے نے عمارت کے مالک امان اللہ محمد یونس کے نام نوٹس جاری کیا ہے۔ اس سے قبل 18 مارچ 2019 کو بھی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔
مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کا ردعمل
سی ڈی اے کے نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسجد محمود نے الزام عائد کیا کہ پشاور میں کور کمانڈر کے سامنے تجاوزات کی نشان دہی کے بعد انتقامی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ان کی نشان دہی کا جواب نہیں ملا تو مخالفین اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔
مولانا اسجد محمود نے کہا کہ نوٹس میں سیکیورٹی گارڈ کے کیبن کو ہٹانے، جنریٹر منتقل کرنے اور اضافی کچن کی تعمیر پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے تمام ادارے ایک شخص کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
مولانا اسجد محمود نے مزید کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنا قابل تشویش ہے۔ انہوں نے قوم اور جمعیت کے کارکنوں سے کہا کہ وہ حالات سے باخبر اور بیدار رہیں۔

