سندھ میں انسدادِ پولیو کی آئندہ صوبائی مہم 2 سے 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ مہم کے دوران صوبے کے 20 اضلاع میں 68 لاکھ 83 ہزار 797 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں مہم کی تیاریوں اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی ڈویژن کے تمام سات اضلاع بھی مہم میں شامل ہوں گے۔
آئندہ چھ ماہ اہم قرار
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ پولیو وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے آئندہ چھ ماہ انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے بچوں تک ویکسینیشن کی رسائی یقینی بنائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں آبادی کی نقل و حرکت اور خاندانوں کی نقل مکانی ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے۔ بہتر تیاری اور مؤثر عمل درآمد سے مہم کے نتائج بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔
آصف حیدر شاہ نے معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن کوریج کی رپورٹس درست اور زمینی حقائق کے مطابق ہونی چاہئیں۔ ویکسین سے محروم بچوں کی نشاندہی کے لیے قابلِ اعتماد اعدادوشمار ضروری ہیں۔
53 ہزار سے زائد ٹیم ممبران مہم میں شریک ہوں گے
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مہم کے دوران 53 ہزار 451 ٹیم ممبران خدمات انجام دیں گے۔ سندھ کے پانچ ڈویژنز کی ایک ہزار 184 یونین کونسلوں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔
بریفنگ کے مطابق، رواں سال سندھ میں پولیو کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں ایک کیس کراچی شرقی اور دوسرا سجاول سے سامنے آیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پولیو وائرس کا جغرافیائی پھیلاؤ محدود ہوا ہے۔ تاہم کراچی اور کشمور میں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مہم کے لیے سیکیورٹی پلان
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ پولیو مہم کی سیکیورٹی کے لیے 19 ہزار 654 پولیس اہلکار فراہم کیے جائیں گے۔
کراچی ڈویژن میں مہم کے دوران 8 ہزار 311 پولیس اہلکار تعینات ہوں گے۔ سیکیورٹی پلان میں 2 ہزار 349 خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔
2029 تک پیدائش کے اندراج کی شرح 90 فیصد کرنے کا ہدف
چیف سیکریٹری سندھ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے 2029 تک پیدائش کے اندراج کی شرح 90 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
ان کے مطابق، پیدائش کا اندراج بہتر بنانے سے ویکسینیشن، پولیو کی روک تھام اور غذائی قلت سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں شریک شراکت دار اداروں نے حکومتی منصوبے کی حمایت کی۔ انہوں نے کراچی میں مؤثر عمل درآمد اور پولیو کے خاتمے کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں اعلیٰ حکام اور عالمی اداروں کے نمائندوں کی شرکت
اجلاس میں سیکریٹری بلدیات، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، سیکریٹری صحت، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی ایچ آئی سندھ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز، صوبائی ای او سی کوآرڈینیٹر اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ای پی آئی شریک ہوئے۔
روٹری انٹرنیشنل کے نیشنل چیئر عزیز میمن، ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے رکن ڈاکٹر کرس ماہر اور عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف اور این اسٹاپ کے نمائندے بھی اجلاس میں موجود تھے۔
نیشنل ای او سی کوآرڈینیٹر کیپٹن انوارالحق اور گیٹس فاؤنڈیشن کی سینئر پروگرام آفیسر ماریہ مے نے بھی شرکت کی۔ ڈویژنل کمشنرز، ڈی آئی جیز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
آخر میں چیف سیکریٹری سندھ نے نیشنل ای او سی، روٹری انٹرنیشنل اور دیگر شراکت دار اداروں کے تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔

