صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان کی زیر صدارت سندھ فوڈ اتھارٹی کے 13ویں اجلاس میں ادارے کے انتظامی، قانونی اور عملی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 میں 20 مجوزہ ترامیم، فوڈ بزنس لائسنسنگ میں آسانیوں اور کنٹونمنٹ علاقوں میں اتھارٹی کے اختیارات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں لائسنسنگ اور غذائی مصنوعات کی رجسٹریشن کا عمل آسان بنانے، نگرانی بہتر کرنے اور مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کے تداخل کو ختم کرنے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔
کنٹونمنٹ علاقوں میں اختیارات کا معاملہ
اجلاس میں کنٹونمنٹ علاقوں میں سندھ فوڈ اتھارٹی کے دائرۂ اختیار پر خصوصی توجہ دی گئی۔ شرکا نے فوڈ بزنس کی لائسنسنگ، معائنے اور قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں پر تبادلہ خیال کیا۔
صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اتھارٹی کے دائرۂ اختیار کے حق میں تحریری قانونی رائے دی ہے۔ اجلاس کو محکمہ قانون کی حمایت اور وزیر قانون کی توثیق سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں حکومت سندھ کے ذریعے ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس ڈپارٹمنٹ اور متعلقہ کنٹونمنٹ بورڈز سے رابطے جاری رکھنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ فوڈ سیفٹی کے مؤثر نظام کے لیے اداروں کے اختیارات واضح ہونا ضروری ہیں۔ ان کے مطابق بہتر رابطہ کاروباری اداروں کے لیے قانونی تقاضے واضح کرے گا اور صارفین کے تحفظ میں بھی مدد دے گا۔
فوڈ بزنس لائسنسنگ میں آسانیاں
اجلاس میں وفاقی ریگولیٹری ریفارمز پیکیج 5(A) کے تحت فوڈ بزنس لائسنسنگ اور غذائی مصنوعات کی نگرانی سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
ان تجاویز میں لائسنس کے اجرا کے مراحل آسان بنانا اور غیر ضروری دستاویزات کی شرط ختم کرنا شامل ہے۔ لائسنس فیس پر نظرثانی اور تجدید کی مدت تین سال مقرر کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
شرکا نے غذائی مصنوعات کی نوعیت اور ممکنہ خطرات کے مطابق نگرانی کا نظام وضع کرنے کی تجاویز بھی دیکھیں۔ اس کے علاوہ مصنوعات کی رجسٹریشن اور لیبل کی پیشگی منظوری کے طریقہ کار کو آسان بنانے پر تبادلہ خیال ہوا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ اصلاحات کا مقصد رجسٹریشن کا عمل سہل بنانا ہے، جبکہ قانونی تقاضوں اور گمراہ کن لیبلنگ کے خلاف تحفظ برقرار رکھا جائے گا۔
اصلاحات کے لیے کمیٹی بنانے کی تجویز
مجوزہ اصلاحات کے قانونی، تکنیکی، انتظامی اور مالی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مختلف شعبوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
مجوزہ کمیٹی میں لائسنسنگ، مصنوعات اور لیبل رجسٹریشن، تکنیکی و آپریشنز، فنانس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور قانونی شعبوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔
کمیٹی کو سات اصلاحاتی نکات پر الگ الگ سفارشات 21 روز میں پیش کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔
صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ لائسنسنگ اور رجسٹریشن کا طریقہ کار واضح اور آسان ہونا چاہیے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ صحت عامہ اور غذائی معیار کے تحفظ کے لیے ضروری قانونی تقاضے برقرار رہنے چاہییں۔
سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ میں 20 ترامیم زیر غور
اجلاس میں سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 میں 20 مجوزہ ترامیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان میں اتھارٹی کی تشکیل اور اجلاسوں کے طریقہ کار میں تبدیلیاں شامل ہیں۔
مجوزہ ترامیم میں کاروباری احاطوں کی درجہ بندی، انتظامی ذمہ داریوں اور قانون نافذ کرنے کے اختیارات سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔ رپورٹنگ اور اپیل کے طریقہ کار میں تبدیلیوں پر بھی غور کیا گیا۔
اس کے علاوہ غیر محفوظ خوراک کو تلف کرنے اور غذائی مصنوعات کی سراغ رسانی کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مجوزہ اصلاحات اور قانونی ترامیم پر مقررہ طریقہ کار کے مطابق مزید کارروائی ہوگی۔ منظوری اور نفاذ تک سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 اور اس کے تحت نافذ ضوابط برقرار رہیں گے۔
اجلاس میں اراکین سندھ اسمبلی فیاض علی بٹ، بیرسٹر ہالار وسان اور سکندر شورو کے علاوہ سیکریٹری خوراک، ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی، فوڈ سائنس و ٹیکنالوجی کے ماہرین اور فوڈ انڈسٹری و صارفین کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اتھارٹی کے 12ویں اجلاس کی کارروائی کی توثیق کا معاملہ بھی پیش کیا گیا۔

