سندھ پولیس اور ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری کے درمیان پولیس افسران، اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو رعایتی طبی و تشخیصی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔ معاہدے کے تحت حاضر سروس اور ریٹائرڈ پولیس ملازمین کے خاندانوں کو طبی سہولیات میں خصوصی رعایت دی جائے گی۔
سندھ پولیس کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ہوئی۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری کے سی ای او پروفیسر ڈاکٹر فرحان عیسیٰ عبداللہ نے تقریب میں شرکت کی۔ معاہدے پر اے آئی جی ویلفیئر اور لیبارٹری کے ایگزیکٹو مینیجر نے دستخط کیے۔
تقریب میں ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹرز اور ویلفیئر، اے آئی جیز ویلفیئر اور ایڈمن سمیت ایس ایس پی میڈیا و تعلقاتِ عامہ بھی موجود تھے۔
طبی معائنے اور آگاہی پروگرام
معاہدے کے تحت پولیس افسران، اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے طبی معائنے، تشخیصی ٹیسٹ اور صحت سے متعلق آگاہی کے پروگراموں کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں ادارے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی کے لیے مشترکہ اقدامات بھی کریں گے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ پولیس افسران اور جوان شب و روز عوام کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کی صحت اور فلاح و بہبود ادارے کی اہم ذمہ داری ہے۔
ان کے مطابق پولیس ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا فلاحی اقدامات کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس صحت کے شعبے میں نجی اداروں کے تعاون سے سہولیات بہتر بنانے کے لیے کام کررہی ہے۔
پولیس اہلکاروں کے لیے علاج کی سہولت
آئی جی سندھ نے بتایا کہ سندھ حکومت ہیلتھ انشورنس کے ذریعے پولیس افسران اور جوانوں کو 10 لاکھ روپے تک کے علاج کی سہولت فراہم کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت طبی معائنے اور صحت سے متعلق آگاہی سے بیماریوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس فورس اور اس کے اہلِ خانہ کی طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فلاحی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری کا تعاون
ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری کے سی ای او پروفیسر ڈاکٹر فرحان عیسیٰ عبداللہ نے کہا کہ ادارے کی ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد لیبارٹریز موجود ہیں۔
ان کے مطابق سندھ پولیس کی خدمات کے باعث لیبارٹریز اور طبی سہولتوں کے مراکز ایسے علاقوں تک بھی پہنچ سکے جہاں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے باعث رسائی مشکل تھی۔
انہوں نے صوبے میں قیامِ امن کے لیے سندھ پولیس کی قربانیوں کو سراہا اور پولیس خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
