نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو جنوری سے اکتوبر 2026 کے دوران آن لائن مالی فراڈ، ہراسگی، ہیکنگ، بلیک میلنگ اور جعلی سوشل میڈیا پروفائلز سمیت مختلف سائبر جرائم کی 6 ہزار 800 سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔ ان شکایات کی کارروائی کے نتیجے میں 108 مقدمات درج کیے گئے اور 319 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 7 مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، موصولہ شکایات میں سے 6 ہزار 784 کی تصدیق کی گئی۔ ان میں سے 2 ہزار 66 شکایات کو باقاعدہ انکوائریز میں تبدیل کیا گیا۔ درج مقدمات میں 17 کے حتمی چالان پیش کیے گئے، جبکہ فریقین کے درمیان راضی نامے کے بعد 243 انکوائریز بند کردی گئیں۔
غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں
اعداد و شمار کے مطابق، 20 اکتوبر 2026 تک غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں میں سب سے زیادہ 266 ملزمان گرفتار کیے گئے۔
آن لائن مالی فراڈ کی 2 ہزار 352 شکایات
این سی سی آئی اے کو آن لائن مالی فراڈ سے متعلق 2 ہزار 352 شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں سے 2 ہزار 342 کی تصدیق کے بعد 993 انکوائریز شروع کی گئیں۔
اس نوعیت کے جرائم میں 13 مقدمات درج ہوئے اور 10 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ مزید 69 شکایات فریقین کے درمیان صلح کے بعد بند کردی گئیں۔
چائلڈ پورنوگرافی سمیت دیگر سائبر جرائم
چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق 19 انکوائریز کے نتیجے میں 4 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 2 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
این سی سی آئی اے کو دیگر سائبر جرائم سے متعلق بھی شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں آن لائن تعاقب، آن لائن خریداری اور قرضوں کے فراڈ، توہین مذہب، ریاست مخالف سرگرمیاں، اسپوفنگ، اسپیم، پورنوگرافی اور ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے متعلق معاملات بھی ان شکایات کا حصہ تھے۔ اعداد و شمار مختلف نوعیت کے سائبر جرائم کے خلاف درج مقدمات، انکوائریز اور گرفتاریوں کی تفصیلات پیش کرتے ہیں۔

