وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اہم شخصیات، سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی سیکیورٹی کا ازسرِنو جائزہ لینے اور سیکیورٹی وسائل کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا۔
سیکیورٹی کا تعین خطرات کی بنیاد پر ہوگا
اجلاس میں وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ تمام اہم شخصیات، سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کی فراہمی تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کی روشنی میں یقینی بنائی جائے۔
ضیاء الحسن لنجار نے غیر مجاز طور پر فراہم کی گئی سیکیورٹی واپس لینے کے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کی ضرورت اور خطرات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نفری تعینات کی جائے۔
غیر ضروری نفری کی تعیناتی ختم کرنے کی ہدایت
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر غیر ضروری نفری تعینات کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وی آئی پیز کی سیکیورٹی کا تعین حقیقی خطرات اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
انہوں نے سیکیورٹی انتظامات میں شفافیت اور مؤثر نگرانی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق کسی بھی شخصیت کو سیکیورٹی فراہم کرتے وقت تھریٹ اسسمنٹ کو بنیادی اہمیت دی جائے اور دستیاب وسائل ضرورت اور ترجیحات کے مطابق استعمال کیے جائیں۔
عوام کے تحفظ اور نفری کی دستیابی پر زور
ضیاء الحسن لنجار نے ہدایت کی کہ سیکیورٹی انتظامات میں عوام کے تحفظ کے ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کی دستیابی اور مؤثر تعیناتی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

