Site icon Tashakur News

شادی کا جھانسہ دے کر خاتون کو بلیک میل کرنے کے الزام میں ملزم گرفتار

NCCIA Karachi cybercrime investigation into allegations of online harassment and blackmail against a woman.

NCCIA Karachi arrests a suspect accused of cyber harassment and blackmailing a woman.

کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے خاتون کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔

این سی سی آئی اے کراچی زون کے مطابق ملزم شعیب نواز آفریدی کو 21 اکتوبر 2026 کو گلستانِ جوہر میں ملینیم مال کے قریب گرفتار کیا گیا۔ ملزم پر شادی کا جھانسہ دے کر خاتون کی نجی تصاویر اور ویڈیوز بنانے اور بعد میں انہیں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنے کا الزام ہے۔

گاڑی کرائے پر لینے کے دوران رابطہ ہوا، شکایت

این سی سی آئی اے کے مطابق متاثرہ خاتون نے ادارے میں شکایت درج کرائی تھی کہ اس نے ملزم سے ایک گاڑی کرائے پر حاصل کی تھی۔ شکایت کے مطابق ملزم نے اس دوران خاتون سے دوستی قائم کی اور اسے شادی کا جھانسہ دیا۔

خاتون نے الزام لگایا کہ ملزم نے اس کی نجی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں اور بعد میں انہیں استعمال کرتے ہوئے اسے مسلسل ہراساں اور بلیک میل کرتا رہا۔

دیگر خواتین کو بھی نشانہ بنانے کا شبہ

ادارے کے مطابق ابتدائی معلومات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم مبینہ طور پر خواتین کو کرائے پر گاڑیاں فراہم کرنے کی آڑ میں ان سے رابطے قائم کرتا تھا۔ اس کے بعد اعتماد حاصل کرکے نجی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے انہیں بلیک میل کرنے کا الزام ہے۔

این سی سی آئی اے نے اس پہلو سمیت معاملے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

PECA کے تحت مقدمہ درج

این سی سی آئی اے کراچی زون نے ملزم کے خلاف مقدمہ نمبر 111/2026 درج کیا ہے۔ مقدمے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی دفعات 20، 21 اور 24 کے ساتھ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 109 شامل کی گئی ہے۔

ادارے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے علی ناصر رضوی نے خواتین کو سائبر ہراسگی، بلیک میلنگ اور آن لائن استحصال سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کارروائی کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔

این سی سی آئی اے نے کہا ہے کہ خواتین کی نجی زندگی، عزت اور وقار کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ادارے نے شہریوں، بالخصوص خواتین، سے اپیل کی ہے کہ سائبر ہراسگی یا بلیک میلنگ کا سامنا ہونے پر متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔ ترجمان کے مطابق متاثرہ خواتین کی شناخت اور نجی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

Exit mobile version